📅
مئی 2026 | ✍️ مٹی گولڈ آرگینک | 🗂️
کاشتکاری کے مشورے
کھجور کی کاشت کے لیے مٹی کی تیاری اور کھادوں کی مقدار (درخواست کی شرح)
کھجور (Phenix dactylifera) کچھ کے نیم خشک اور بنجر خطے کی ایک اہم نقد آور فصل ہے۔ اس کی بہتر پیداوار کے لیے مٹی کی ساخت اور غذائیت کو بہتر بنانا انتہائی ضروری ہے۔ کسانوں کو بوائی کے وقت مٹی کی تیاری میں فی درخت 15 سے 20 کلوگرام
مٹی گولڈ نامیاتی ورمی کمپوسٹ کھاد (Mitti Gold Organic Vermicompost Fertilizer) اور 10 کلوگرام
کمپوسٹڈ گائے کا گوبر کھاد (Composted Cow Dung Manure) استعمال کرنا چاہیے۔ یہ کھادیں ریتلی اور بنجر مٹی کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں اور جڑوں کو نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسے اہم غذائی اجزاء مسلسل فراہم کرتی ہیں۔ اس خطے میں نامیاتی مادے (Organic Matter) کی کمی کو دور کرنے کے لیے فی ایکڑ 5 سے 7 ٹن گوبر کی کھاد کا استعمال سالانہ بنیادوں پر کیا جانا چاہیے۔ کھجور کے نئے باغات لگانے کے لیے گڑھوں کی کھدائی کے وقت ہی مٹی میں ان کھادوں کی مناسب مقدار ملا دینے سے پودے کی ابتدائی نشوونما بہت تیزی سے ہوتی ہے اور جڑیں مضبوط بنتی ہیں۔
کھجور کے باغ میں نامیاتی مصنوعات اور ورمی کمپوسٹ کا طریقہ استعمال
کھجور کے پودوں کو بہترین غذائیت فراہم کرنے کے لیے کھاد کا درست استعمال لازمی ہے۔ کھاد کو پودے کے تنے سے 2 سے 3 فٹ دور دائرے (Ring Method) میں ڈالنا چاہیے اور مٹی میں ہلکی گودائی کر کے اچھی طرح ملا دینا چاہیے۔ اس کے بعد ہلکی آبپاشی کریں۔ کسانوں کو سال میں دو بار، ایک بار مون سون سے پہلے (جون-جولائی) اور دوسری بار پھل لگنے کے سیزن سے پہلے (جنوری-فروری)، کھاد کی یہ مقدار دہرانی چاہیے۔ اس کے علاوہ پودوں کی جڑوں کو فنگس اور بیماریوں سے بچانے کے لیے مٹی گولڈ زرعی لکڑی کا کوئلہ (Mitti Gold Agricultural Charcoal) مٹی میں شامل کریں جو زہریلے مادوں کو جذب کرتا ہے اور نمی کو دیر تک برقرار رکھتا ہے۔ زرعی کوئلے کا استعمال کھجور کے باغات میں پانی کی کھپت کو کم کرنے کا ایک بہترین سائنسی طریقہ ہے جو خشک علاقوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔
1
تنے کے گرد دائرہ بنانا
تنے سے 2 سے 3 فٹ کے فاصلے پر 6 انچ گہرا گول گڑھا بنائیں اور مٹی کو نرم کریں۔
2
نامیاتی کھادوں کی آمیزش
اس گڑھے میں 15 کلو ورمی کمپوسٹ، 5 کلو کمپوسٹڈ گوبر کھاد اور 500 گرام مٹی گولڈ زرعی لکڑی کا کوئلہ ڈالیں۔
3
مٹی کی تہہ اور آبپاشی
کھاد کے اوپر دوبارہ مٹی ڈال کر گڑھے کو بند کریں اور ہلکا پانی دیں تاکہ جڑیں غذائیت جذب کر سکیں۔
نامیاتی اور کیمیائی کاشتکاری کے نتائج کا موازنہ
کیمیائی کھادوں (جیسے یوریا اور ڈی اے پی) کے استعمال سے کچھ کی ریتلی مٹی مزید بنجر اور سخت ہو جاتی ہے، جبکہ نامیاتی کاشتکاری کے نتائج درج ذیل ہیں:
- پانی کی بچت: ورمی کمپوسٹ اور زرعی لکڑی کے کوئلے کے استعمال سے مٹی کی نمی برقرار رہتی ہے اور پانی کی ضرورت میں 30% تک کمی آتی ہے۔
- پھل کا معیار: نامیاتی طریقوں سے حاصل ہونے والی کھجور زیادہ میٹھی، گودے دار اور چمکدار ہوتی ہے جس کی قومی اور بین الاقوامی منڈیوں میں قیمت زیادہ ملتی ہے۔
- طویل مدتی زرخیزی: زمین کی زرخیزی سال بہ سال بڑھتی ہے اور مٹی کا نامیاتی ڈھانچہ مضبوط ہوتا ہے جبکہ کیمیکلز سے زمین بنجر اور بے جان ہو جاتی ہے۔
مٹی کے جانداروں اور خوردبینی حیات کا تحفظ
ریتلی مٹی میں نامیاتی کھاد کا استعمال مٹی کے کینچوؤں (Earthworms) اور فائدہ مند جراثیم (Microbes) کی افزائش کو تیز کرتا ہے۔ مٹی گولڈ ورمی کمپوسٹ میں موجود کینچوے مٹی کو قدرتی طور پر نرم اور ہوا دار بناتے ہیں، جس سے جڑوں کے پھیلاؤ میں آسانی ہوتی ہے۔ یہ مائیکروبیل سرگرمی مٹی کی قدرتی قوت کو بحال کرتی ہے اور بنجر ریگستان کو سرسبز بناتی ہے۔
جڑی بوٹیوں اور بیماریوں سے فصل کا تحفظ
کھجور کے پودوں کو دیمک اور فنگس کے حملوں سے بچانے کے لیے
خالص گوبر پاؤڈر (Pure Cow Dung Powder) اور نیم کی کھلی کا آمیزہ جڑوں میں ڈالیں۔ کیمیائی اسپرے کے بجائے نامیاتی جراثیم کش ادویات اور گوموتر کا سپرے مٹی کی صحت کو محفوظ رکھتا ہے اور پودوں کو طویل مدتی قوت مدافعت فراہم کرتا ہے جس سے وہ موسمی دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں۔
کھجور کی مقامی اور عالمی مارکیٹ کے مواقع
کچھ کی نامیاتی کھجور کی مانگ نہ صرف بھارت بلکہ خلیجی ممالک اور یورپ میں بھی بہت زیادہ ہے۔ نامیاتی تصدیق شدہ کھجوریں عام مارکیٹ سے 40-60% زیادہ منافع بخش قیمت پر فروخت ہوتی ہیں، جس سے کسانوں کی آمدنی دگنی ہوتی ہے۔ کسان اپنے برانڈ کے تحت ان کی گریڈنگ اور پیکنگ کر کے براہ راست برآمد کاروں کو فروخت کر سکتے ہیں۔
📦 بلک آرڈرز اور ایکسپورٹ
مٹی گولڈ آرگینک: بلک آرڈرز کے لیے — کسان، نرسری، باغبان اور ایکسپورٹ۔ واٹس ایپ: +91 95372 30173
کھجور کی کاشت کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کچھ میں کھجور کے پودے لگانے کا بہترین وقت کون سا ہے؟ +
کچھ میں کھجور کے پودے لگانے کا بہترین وقت جولائی سے ستمبر تک کا مون سون سیزن ہے، جب ہوا میں نمی ہوتی ہے اور پودے کی جڑیں آسانی سے جم جاتی ہیں۔
کھجور کی کاشت کے لیے مٹی گولڈ ورمی کمپوسٹ کیوں ضروری ہے؟ +
مٹی گولڈ ورمی کمپوسٹ کچھ کی ریتلی مٹی کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسے اہم نامیاتی اجزاء پودے کی جڑوں تک آہستہ آہستہ پہنچاتا ہے۔
کیا کھجور کی کاشت میں زرعی کوئلہ فائدہ مند ہے؟ +
جی ہاں، مٹی گولڈ زرعی لکڑی کا کوئلہ مٹی کے پی ایچ (pH) کو متوازن رکھتا ہے، نمی کو دیر تک محفوظ رکھتا ہے اور جڑوں کو فنگس اور نقصان دہ بیکٹیریا سے بچاتا ہے۔
نامیاتی کھاد کا استعمال کھجور کے ذائقے پر کیا اثر ڈالتا ہے؟ +
نامیاتی کھادوں کے استعمال سے پھل میں قدرتی شکر کی مقدار بڑھتی ہے، جس سے کھجور کا ذائقہ زیادہ میٹھا، ساخت نرم اور خوشبو منفرد ہو جاتی ہے۔
پودوں کو دیمک اور کیڑوں سے بچانے کا نامیاتی طریقہ کیا ہے؟ +
پودوں کی جڑوں میں مٹی گولڈ خالص گوبر پاؤڈر اور نیم کے پاؤڈر کا آمیزہ ڈالیں اور ہر 15 دن میں گوموتر کا اسپرے کریں۔ اس سے دیمک اور نقصان دہ کیڑے دور رہتے ہیں۔