🌐 English हिंदी ગુજરાતી اردو

🌿 ماگیل تیالا وہیر یوجنا: مہاراشٹر کے کسانوں کے لیے پانی اور خوشحالی

مہاراشٹر حکومت کی مشہور اسکیم ماگیل تیالا وہیر یوجنا کے تحت کنویں کی تعمیر کے لیے سبسڈی، رجسٹریشن اور پانی کے بہتر انتظام کی تفصیلی معلومات۔

📅 مئی 2026  |  ✍️ مٹی گولڈ آرگینک  |  🗂️ سرکاری اسکیمیں

ماگیل تیالا وہیر یوجنا مہاراشٹر 2026: سبسڈی اور آبپاشی گائیڈ

کنویں کے پانی سے نامیاتی کاشتکاری میں پانی اور کھاد کی مقدار

مہاراشٹر میں آبپاشی کی قلت کسانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ حکومت مہاراشٹر نے اس کے حل کے لیے "ماگیل تیالا وہیر یوجنا" (Magel Tyala Vihir Yojana) شروع کی ہے، جس کا مقصد کسانوں کو کنویں کی کھدائی کے لیے ₹3 لاکھ سے ₹4 لاکھ تک کی براہ راست سبسڈی فراہم کرنا ہے۔ کنویں کی تعمیر کے بعد کسان کو آبپاشی کا درست انتظام کرنا چاہیے۔ پانی کی بچت اور پودوں کو متوازن نمی دینے کے لیے فی ایکڑ 10 کلوگرام مٹی گولڈ زرعی لکڑی کا کوئلہ (Mitti Gold Agricultural Charcoal) اور 15 کلوگرام نامیاتی ورمی کمپوسٹ (Organic Vermicompost) کا استعمال ہر پودے کی جڑ کے پاس کریں تاکہ مٹی پانی کو دیر تک ذخیرہ کر سکے۔ پانی کے موثر انتظام سے خشک مٹی بھی زرخیز بن جاتی ہے۔

کنویں کے پانی اور نامیاتی آمیزوں کے استعمال کا طریقہ

کنویں سے دستیاب پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے ڈرپ آبپاشی کا نظام نصب کریں۔ ڈرپ کے پانی میں خمیر شدہ جیوا امرت شامل کریں، جو گوبر، گوموتر اور مٹی کا مرکب ہے۔ کھیت میں پودے لگانے سے پہلے کھدائی والے حصوں میں مٹی گولڈ کمپوسٹڈ گائے کا گوبر (Composted Cow Dung Manure) اور خالص گوبر پاؤڈر (Pure Cow Dung Powder) مٹی میں ملا کر بیڈز تیار کریں۔ یہ مرکب مٹی کے اندر نمی جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے، جس سے کنویں کا پانی طویل عرصے تک فصلوں کو سیراب کرتا رہتا ہے اور پودوں کو مسلسل غذائیت ملتی ہے۔
1

مہا ڈی بی ٹی پورٹل پر درخواست

کسان مہاراشٹر حکومت کے مہا ڈی بی ٹی پورٹل پر جا کر آدھار اور 7/12 زمین کے کاغذات کے ساتھ آن لائن درخواست دیں۔

2

کنویں کی کھدائی اور منظوری

سرکاری افسران کے معائنے کے بعد منظور شدہ رقم سے سائنسی طریقے سے کنواں کھودیں اور جیو ٹیگ ویریفیکیشن کروائیں۔

3

ڈرپ اور نامیاتی کھاد کا ملاپ

کنویں سے ڈرپ پائپ لائن جوڑیں اور مٹی گولڈ نامیاتی ورمی کمپوسٹ کھاد کی مدد سے کھیت کو زرخیز بنائیں۔

کنویں کی آبپاشی اور بارانی کاشتکاری کے نتائج کا موازنہ

مہاراشٹر کے کسان کنویں کی آبپاشی اور نامیاتی طریقوں کے امتزاج سے زبردست نتائج حاصل کر سکتے ہیں:
  • سال بھر فصلیں اگانا: صرف مانسون پر انحصار کرنے کے بجائے کسان اب سال میں 2 سے 3 فصلیں اگا سکتے ہیں، جس سے ان کا منافع مستقل رہتا ہے۔
  • بہترین نمی کا کنٹرول: ورمی کمپوسٹ اور زرعی کوئلے کے استعمال سے مٹی سخت نہیں ہوتی، اور جڑیں گہرائی تک پھیل کر پانی حاصل کرتی ہیں۔
  • پھلدار باغات کی پیداوار: کنویں کے پانی کی بدولت انار، سنترے اور انگور کے باغات کی کامیاب نامیاتی کاشت ممکن ہو جاتی ہے جس سے کسان کی معاشی حالت مستحکم ہوتی ہے۔

مٹی کے حیاتیاتی تنوع پر مسلسل نمی کے فوائد

کنویں کی مسلسل آبپاشی اور مٹی گولڈ نامیاتی کھاد کا استعمال مٹی کے کینچوؤں کی زندگی کے لیے نہایت مفید ہے۔ مٹی میں نمی رہنے سے یہ جاندار متحرک رہتے ہیں اور مٹی کو نامیاتی مادوں سے بھرپور بناتے ہیں۔ کینچوے مٹی کو قدرتی طور پر ہوا دار بناتے ہیں جو پودوں کی جڑوں کی صحت کے لیے بہترین ہے۔

پانی کے بہاؤ اور بیماریوں سے فصلوں کا تحفظ

زیادہ پانی دینے سے بعض اوقات جڑوں میں فنگس اور سڑن پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے مٹی میں مٹی گولڈ زرعی لکڑی کا کوئلہ شامل کریں۔ یہ کوئلہ پانی کی اضافی مقدار کو جذب کر لیتا ہے اور جڑوں کو فنگل بیماریوں سے دور رکھتا ہے۔ کیمیکلز سے پاک مدافعت حاصل کرنے کا یہ سب سے بہترین نامیاتی طریقہ ہے۔

نامیاتی فصلوں کے لیے مارکیٹ اور منافع کے مواقع

پانی کی مناسب دستیابی کے بعد اگائی جانے والی سبزیوں اور پھلوں کو ممبئی، پونے اور ناگپور کی ہول سیل مارکیٹوں میں اچھے داموں فروخت کیا جا سکتا ہے۔ نامیاتی تصدیق شدہ پھل برآمد کے لیے بھی بھیجے جاتے ہیں جس سے کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے اور مٹی کی صحت بھی برقرار رہتی ہے۔

📅 سرکاری درخواست اور آخری تاریخ کی گائیڈ

درخواست کی آخری تاریخ 31 اکتوبر 2026

📦 بلک آرڈرز اور ایکسپورٹ

مٹی گولڈ آرگینک: بلک آرڈرز کے لیے — کسان، نرسری، باغبان اور ایکسپورٹ۔ واٹس ایپ: +91 95372 30173

ماگیل تیالا وہیر یوجنا کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

ماگیل تیالا وہیر اسکیم کے تحت کتنی سبسڈی ملتی ہے؟ +
مہاراشٹر حکومت کی جانب سے کنویں کی تعمیر کے لیے زیادہ سے زیادہ ₹3 لاکھ سے ₹4 لاکھ تک کی مالی امداد براہ راست کسان کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے۔
اس اسکیم کا فائدہ اٹھانے کے لیے کتنی زمین ہونا ضروری ہے؟ +
کسان کے پاس کم از کم 0.20 ہیکٹر (تقریباً آدھا ایکڑ) زمین ہونا ضروری ہے تاکہ وہ کنویں اور آبپاشی کا کامیاب انتظام کر سکے۔
کیا اس اسکیم میں نجی اور مشترکہ کنویں دونوں کے لیے سبسڈی ملتی ہے؟ +
جی ہاں، چھوٹے اور پسماندہ کسان مشترکہ کنویں کے لیے بھی گروپ بنا کر سبسڈی کی درخواست دے سکتے ہیں۔
کنویں کے پانی کے ساتھ ورمی کمپوسٹ کا کیا تعلق ہے؟ +
ورمی کمپوسٹ مٹی میں پانی روکنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے، جس سے کنویں سے کم پانی استعمال کر کے بھی فصلوں کو تروتازہ رکھا جا سکتا ہے۔
اس اسکیم کے لیے آن لائن فارم کس پورٹل پر بھرا جاتا ہے؟ +
مہاراشٹر کے کسان آفیشل مہا ڈی بی ٹی پورٹل (mahadbt.maharashtra.gov.in) پر جا کر اپنی آئی ڈی کے ذریعے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔
📩 فوری انکوائری

زیادہ اگائیں، نامیاتی اگائیں

پورے بھارت اور دنیا بھر کے کسانوں، نرسریوں، باغبانوں اور برآمد کنندگان کے لیے پریمیم ورمی کمپوسٹ کھاد اور چارکول۔

+91 95372 30173 بلک کوٹیشن حاصل کریں

📬 فوری انکوائری