📅 مئی 2026 | ✍️ مٹی گولڈ آرگینک | 🗂️ مٹی کی صحت
خام مال کی ضروریات اور تناسب
بہترین اور مکمل طور پر تیار شدہ گوبر کی کھاد (FYM) بنانے کے لیے خام مال کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے۔ 1 بیگھہ زمین کے لیے آپ کو کم از کم 2 سے 3 ٹن (2000-3000 کلوگرام) تیار کھاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ سڑنے کے عمل کے دوران نمی کے اخراج اور کاربن کے ٹوٹنے کی وجہ سے گوبر کا وزن 40-50% کم ہو جاتا ہے، اس لیے آپ کو تقریباً 4 سے 5 ٹن کچے گوبر اور زرعی فضلے سے شروعات کرنی چاہیے۔ بہتر نتائج کے لیے 70% تازہ گوبر اور پیشاب کو 30% خشک زرعی فضلے (جیسے گندم کا بھوسہ، خشک پتے) کے ساتھ مکس کریں۔ یہ تناسب اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سڑنے کے دوران اتنی گرمی پیدا ہو جو جڑی بوٹیوں کے بیجوں کو ختم کر دے لیکن نائٹروجن ضائع نہ ہو۔
جگہ کا انتخاب اور گڑھے کی تیاری
بڑی مقدار میں کھاد بنانے کا سب سے موثر طریقہ خندق یا گڑھا (trench method) ہے۔ فارم پر کسی اونچی جگہ کا انتخاب کریں جہاں بارش کا پانی جمع نہ ہو۔ ایک خندق کھودیں جو تقریباً 3 فٹ گہری اور 5 سے 6 فٹ چوڑی ہو، اور لمبائی آپ کی ضرورت کے مطابق ہو۔ 3 فٹ سے زیادہ گہرائی نہ رکھیں، ورنہ نیچے کی تہوں کو آکسیجن نہیں ملے گی اور کھاد بدبودار اور تیزابی ہو جائے گی۔ گڑھا بھرنے سے پہلے نیچے 2 انچ خشک بھوسے کی تہہ بچھائیں تاکہ وہ گوبر سے نکلنے والے غذائیت سے بھرپور مائع کو جذب کر لے اور وہ زمین میں ضائع نہ ہو۔
مرحلہ وار استعمال کی گائیڈ
گڑھا بھرنا
گڑھے کو تہوں میں بھریں۔ 1 فٹ گوبر کی تہہ کے بعد ایک پتلی تہہ خشک زرعی فضلے کی ڈالیں۔
نمی کا خیال
اگر گوبر بہت خشک ہو تو پانی چھڑکیں۔ نمی ایک گیلے اسپنج کی طرح ہونی چاہیے (تقریباً 50-60%)۔
گڑھے کو سیل کرنا
جب ڈھیر زمین سے 1.5 فٹ اوپر ہو جائے، تو اسے مٹی اور گوبر کے لیپ سے بند کر دیں تاکہ گرمی اندر رہے اور نمی برقرار رہے۔
پلٹنا (Aeration)
30 دن بعد سیل کھول کر پورے ڈھیر کو پلٹ دیں تاکہ آکسیجن ملے اور سڑنے کا عمل تیز ہو۔
تیاری (Curing)
مزید 60 سے 90 دن کے لیے چھوڑ دیں۔ تیار کھاد گہرے بھورے رنگ کی، بھربھری اور مٹی جیسی خوشبو والی ہوگی۔
تیار کھاد بمقابلہ کچا گوبر
کھیت میں کچا گوبر ڈالنے اور تیار کھاد ڈالنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ کچا گوبر جب زمین میں سڑتا ہے تو بہت زیادہ گرمی (60-70°C) اور امونیا گیس پیدا کرتا ہے، جو پودوں کی جڑوں کو جلا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ کچا گوبر مٹی کی نائٹروجن کو بھی عارضی طور پر روک لیتا ہے۔ اس کے برعکس مکمل تیار شدہ کھاد ٹھنڈی ہوتی ہے اور اس کے غذائی اجزاء پودوں کو فوری دستیاب ہوتے ہیں۔ سڑنے کے عمل کے دوران پیدا ہونے والی گرمی جڑی بوٹیوں کے بیجوں کو بھی ختم کر دیتی ہے، جس سے کسان کا جڑی بوٹیوں کی صفائی کا خرچہ بچ جاتا ہے۔
مٹی کے حیاتیاتی نظام کی مدد
اچھی طرح سڑی ہوئی کھاد مٹی کے نظام کے لیے بنیادی خوراک ہے۔ یہ مٹی میں موجود مقامی کینچووں اور فائدہ مند کیڑوں کے لیے غذا فراہم کرتی ہے۔ جب آپ کھیت میں 3 ٹن کھاد ڈالتے ہیں، تو یہ ان کیڑوں کے لیے ایک دعوت ہوتی ہے جو مٹی کو مزید نرم کرتے ہیں اور اسے گہرائی تک لے جاتے ہیں۔ ان کی حرکت سے مٹی میں ہوا کا گزر بہتر ہوتا ہے اور اس کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے، جس سے آپ کی فصل خشک سالی کے خلاف لچکدار ہو جاتی ہے۔
پودوں کی قوت مدافعت بڑھانا
اگرچہ عام کھاد میں ورمی کمپوسٹ جیسی فوری اثر والی خصوصیات نہیں ہوتیں، لیکن یہ پودوں میں طویل مدتی لچک پیدا کرتی ہے۔ ایسی مٹی میں جرثوموں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جو پودوں کو فنگس اور دیگر بیماریوں سے بچاتے ہیں۔ کھاد کے استعمال سے پودے کی اندرونی ساخت مضبوط ہوتی ہے اور پتے موٹے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے رس چوسنے والے کیڑے ان پر آسانی سے حملہ نہیں کر پاتے اور بیماریوں کا دباؤ کم رہتا ہے۔
بڑے کسانوں کے لیے معاشی فائدہ
وہ کسان جو سینکڑوں ایکڑ پر کاشتکاری کرتے ہیں، ان کے لیے مہنگی کھادیں خریدنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اپنے فارم پر ہی گوبر کی کھاد تیار کرنا سب سے بہتر حل ہے۔ اس سے نہ صرف یوریا اور ڈی اے پی کے اخراجات کم ہوتے ہیں بلکہ مٹی کی ساخت بہتر ہونے سے ہل چلانے کا خرچہ (ٹریٹر فیول) اور آبپاشی کی بجلی بھی بچتی ہے۔ اضافی کھاد کو فروخت کر کے کسان مزید آمدنی بھی حاصل کر سکتا ہے۔
📦 بلک آرڈرز اور ایکسپورٹ
مٹی گولڈ آرگینک: بلک آرڈرز کے لیے — کسان، نرسری، باغبان اور ایکسپورٹ۔ واٹس ایپ: +91 95372 30173