📅 مئی 2026 | ✍️ مٹی گولڈ آرگینک | 🗂️ مٹی کی صحت
بائیو این پی کے کی مقدار
کیمیائی این پی کے کھادوں (یوریا، ڈی اے پی وغیرہ) نے مٹی کو سخت کر دیا ہے اور اس کی قدرتی قوتِ مدافعت ختم کر دی ہے۔ این پی کے بائیو فرٹیلائزرز (جن میں زندہ بیکٹیریا ہوتے ہیں) ایک بہترین متبادل ہیں۔ یہ براہ راست کیمیکل دینے کے بجائے مٹی میں موجود غذائی اجزاء کو پودے کے لیے قابلِ استعمال بناتے ہیں۔
مقدار اور استعمال
ایک بیگھہ زمین کے لیے عموماً 500 ملی لیٹر سے 1 لیٹر بائیو فرٹیلائزر استعمال ہوتا ہے، جسے 100 کلوگرام ورمی کمپوسٹ میں ملا کر استعمال کرنا بہتر ہے۔
زندہ بیکٹیریا کے استعمال کا صحیح طریقہ
بائیو فرٹیلائزرز زندہ جاندار ہیں، اس لیے ان کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔
بیجوں کا علاج
بیجوں کو بائیو فرٹیلائزر کے محلول میں ڈبو کر سائے میں خشک کریں۔ اس سے بیج اگتے ہی نائٹروجن حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے۔
مٹی میں استعمال
انہیں کبھی بھی تیز دھوپ میں استعمال نہ کریں اور نہ ہی کیمیائی ادویات کے ساتھ ملائیں۔ صبح سویرے یا شام کے وقت استعمال کرنا بہترین ہے۔
کیمیائی بمقابلہ حیاتیاتی این پی کے
کیمیائی کھاد عارضی تیزی دکھاتی ہے جبکہ بائیو این پی کے پودے کو پورا سیزن غذائیت فراہم کرتی ہے۔ اس سے پودے کی جڑیں گہری اور تنے مضبوط ہوتے ہیں۔
مٹی کی قدرتی زندگی کی بحالی
ان بائیو فرٹیلائزرز کا مستقل استعمال مٹی میں فائدہ مند جراثیم کی تعداد بڑھاتا ہے جس سے مٹی کی صحت مستقل طور پر بہتر ہوتی ہے۔
اخراجات میں کمی اور منافع میں اضافہ
کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کر کے کسان اپنے اخراجات 50% تک کم کر سکتے ہیں اور بہتر معیار کی فصل حاصل کر سکتے ہیں۔
🌿 بلک ورمی کمپوسٹ آرڈرز
مٹی گولڈ آرگینک: پریمیم ورمی کمپوسٹ کے بلک آرڈرز کے لیے — کسان، نرسری، باغبان اور ایکسپورٹ۔ واٹس ایپ: +91 95372 30173